Friday, January 4, 2019

سات سالہ طالب علم حبیب کے اغوا اور اندھے قتل کو تاحال پولیس بے نقاب نہیں کر سکی عوام میں غم و غصہ

Rep : Saleem Jhammat
Jang Geo Media Group
0333 7732915

 سات سالہ طالب علم حبیب کے اغوا اور اندھے قتل کو تاحال پولیس بے نقاب نہیں کر سکی پولیس کی خصوصی ٹیمں بھی ملزمان تک نہ پہنچ سکی ہیں کوٹلہ جام دریاخان سمیت ضلع بھر میں عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے دلخراش واقعہ میڈیا پر ہائی لائٹ ہونے پر وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس کے نوٹس پر سات ٹیمیں بنائی گئیں لیکن پولیس تاحال سربریدہ نعش کاباقی ماندہ حصہ بھی نہ ڈھونڈ سکی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دن د یہاڑے کمسن بچے کا اغوا ء و قتل اور ملزمان کی تاحال عدم گرفتاری پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے  دوسری جانب ڈی پی او بھکر کا شائستہ ندیم کا کہنا ہے کہ ملزمان جلد گرفتار کر لئے جائیں گے عوامی سماجی شخصیات زبیر محمود مغل۔ملک مہرالدین ایوبی ۔سلیم جھمٹ ودیگر نے مطامبہ کیا ہے کہ پولیس ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے13دسمبر کے روز نواحی علاقہ کوٹلہ جام گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول سے چھٹی کے بعدگھر جاتے ہوئے اغوا ء ہوا 14 دسمبر کو تھانہ صدر بھکر میں رپورٹ درج ہونے کے باجود پولیس نے گمشدہ بچے کا کھوج نہ لگایا 24دسمبر کے روز دریاخان کچہ نشیب علی لک سکول کے سامنے کھیت سے آدھی نعش دیکھ کر اہل علاقہ نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد جمع کئے سرگودھا سے انویسٹی گیشن ٹیم منگوائی گئی جنہوں نے نمونے حاصل کئے بعد ازاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال نعش کو پہنچایا گیا جہاں پر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کیا گیا پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دیئے اس دوران بیسیوں رکشہ ڈرائیوروں کے علاوہ دیگر جرائم پیشہ اور مشکوک افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا عمل شروع کیا گیا لیکن اس دوران کالاجادو ٹونہ کرنے والے کسی کو شامل تفتیش نہ کیا بعد ازاں 28دسمبر کے روز نعش بر آمد ہونے والے مقام سے ایک ہاتھ برآمد ہوا جسے پولیس نے تحویل میں لیکر دفن کروا دیا ایک مرتبہ پھر 30دسمبر کے روز گھاس کی فصل سے ایک بازو کی نشاندہی کی گئی جس پر ورثاء اور اہلیان علاقہ میں شدید غم و غصہ کے ساتھ خوف پھیل گیاوقفہ وقفہ سے ملنے اعضا کی وجہ سے بچے کے والدین روزانہ مرتے ہیں روزانہ جیتے ہیں جبکہ مقتول محمد حبیب کا سر اور آٹھ پسلیوں سے اوپر کا حصہ تا حال نہ مل سکا جوکہ پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ْ پولیس دو ہفتہ گذر جانے کے باوجود ملزمان تک پہنچنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے کیونکہ بچے کے ورثا ء مالی طور پر کمزور اور کسی سے ذاتی دشمنی نہ ہونے کی بنیاد پر ملزمان کا سراغ لگانا مشکل ہو چکا ہے جبکہ کالا جادو تعویز گنڈھے کا کاروبار کرنے والوں کو شامل تفتیش نہ کیا قابل امر ذکر یہ ہے محمد حبیب کے سکول کی جانب جانے والے راستہ میں بھی تعویز گنڈا کرنے والوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور قبرستان بھی ہے جبکہ دریاخان کے جس علاقہ سے نعش بر آمد ہوئی وہاں بھی پیر بڈھایا سلطان کا قبرستان قریب ہے کہاوڑ کلاں میں بھی عامل موجود ہیں جس پر اہلیان علاقہ نے ایسے افراد کو بھی شامل تفتیش کرنے پر زور دیامیڈیا سے دوران گفتگو حبیب کے والد محمد شکیل نے کہا کہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آئے روز نعش کے ملنے والے عضاء ہمارا غم بڑھا رہے ہیں پولیس کی نااہلی کی انتہا ہے بچے کی نعش ٹکڑے باربار بر آمد کرنے کی بجائے ایک ہی دفعہ تلاش مکمل کریں ابھی سر اور جسم کا دیگر حصہ نہیں مل سکا کو ٹلہ جام کے سات سالہ طالب علم اغوا اور اندھے قتل کو بے نقاب کرنے میں پولیس تاحال ناکام خصوصی ٹیمں بھی ملزمان تک نہ پہنچ سکی ہیں ضلع بھر میں عوام میں غم و غصہ عو امی منتخیب نماندگان اپنا کردار ادا کرنے میں مایوس کن طور ناکام کسی اعلیٰ سطح پر کوئی کردار ادا نہ کرسکے میڈیا کے دباو پر حکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس کے نوٹس پر پولیس متحرک سات ٹیمیں بنائی گئی لیکن ہاتھ کچھ نہ لگ سکا مغوی مقتول کمسن طالب علم کے والدین اور ضلع کی پوری سول سوسائٹی اضطراب میں مبتلا ہیں جو قاتلوں کی گرفتاری کے لئے منتظر تاحال سربریدہ نعش کاباقی ماندہ حصہ بھی پولیس نہ ڈھونڈ سکی ہے پولیس روایتی انداز میں ڈنگ ٹپاو پالیسی پر گامزن جدید اور سائنسی تفتیش بھی موثر نظر نہیں آرہی ہے ایک چھوتے سے علاقہ سے دن د یہاڑے کمسن بچے کا اغوا  اور ملزمان کی تاحال نشان دہی پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے پولیس باقی ماندہ مقتول کی باقیات ڈھونڈ پائے گی اور ملزمان بے نقاب ہوسکیں گے   ؟؟؟

No comments:

Post a Comment

وزیر اعلی پنجاب کا دورہ بھکر مصروفیت کے باعث ملتوی کر دیا گیا

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا دورہ بھکر عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے  دورہ ان کی مصروفیت کے باعث ملتوی کیا گیا واضح رہے  وزیراعلی پنجاب ...